بیماری
باکو میں کیراٹوکونس کا علاج
باکو میں ماہرِ امراضِ چشم کی جانب سے قرنیہ (کارنیا) کا معائنہ اور کیراٹوکونس کے علاج کا منصوبہ، جس میں کراس لنکنگ بھی شامل ہو سکتی ہے۔
کیراٹوکونس ایک ایسی بیماری ہے جس میں قرنیہ (کارنیا)، یعنی آنکھ کے سامنے والی شفاف کھڑکی، آہستہ آہستہ پتلی ہو کر آگے کی طرف مخروطی شکل میں ابھر آتی ہے۔ نظر دھندلی اور ٹیڑھی میڑھی ہو جاتی ہے، اور اکثر عینک بار بار بدلنی پڑتی ہے۔ یہ عموماً نوعمری یا جوانی کے ابتدائی برسوں میں شروع ہوتی ہے اور کئی سال تک بڑھ سکتی ہے۔ باکو میں کیراٹوکونس کا علاج قرنیہ کی محتاط پیمائش سے شروع ہوتا ہے، کیونکہ منصوبہ بیماری کے مرحلے پر اور اس بات پر منحصر ہے کہ یہ ابھی بڑھ رہی ہے یا نہیں۔
علاج ان تبدیلیوں کو واپس نہیں لا سکتا، لیکن اس کا مقصد نظر کو کارآمد رکھنا اور جہاں ممکن ہو بیماری کے بڑھنے کی رفتار کم کرنا ہے۔ معائنے کے نتائج کے مطابق ماہرِ چشم قرنیہ کی کراس لنکنگ، عینک یا خاص کانٹیکٹ لینز، اور بڑھی ہوئی صورتوں میں سرجری پر بات کر سکتا ہے۔ MedAzerbaijan ایک کوآرڈینیٹر ہے، طبی ادارہ نہیں۔ ہم ابتدائی رائے کے لیے آپ کی طبی رپورٹس آنکھوں کے ڈاکٹر کو بھیجتے ہیں، تحریری تخمینہ بھیجتے ہیں اور ویزا، ایئرپورٹ سے لانے اور لے جانے، رہائش اور مترجم کا انتظام کرتے ہیں۔
آذربائیجان میں علاج کے طریقے
قرنیہ کا مکمل معائنہ
ماہرِ چشم نظر کی تیزی اور ریفریکشن (عینک کا نمبر) چیک کرتا ہے اور ٹوپوگرافی یا ٹوموگرافی کے ذریعے قرنیہ کی شکل اور موٹائی کا نقشہ بناتا ہے۔ ان نتائج کا پچھلی پیمائشوں سے موازنہ کرنے سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ کیراٹوکونس بڑھ رہا ہے یا نہیں۔
آنکھوں کا علاجضرورت ہو تو قرنیہ کی کراس لنکنگ
اگر بیماری بڑھ رہی ہو تو ڈاکٹر کراس لنکنگ پر غور کر سکتا ہے۔ اس میں رائبوفلیوین کے قطرے اور الٹرا وائلٹ روشنی استعمال کی جاتی ہے تاکہ قرنیہ کے ٹشو کو مضبوط کیا جائے اور مزید پتلا ہونے کی رفتار کم ہو۔ یہ قرنیہ کی پہلے والی شکل بحال نہیں کرتی، اور اس کی موزونیت قرنیہ کی موٹائی اور دیگر نتائج پر منحصر ہے۔
عینک اور خاص کانٹیکٹ لینز
ابتدائی مراحل میں عینک سے اچھی نظر مل سکتی ہے۔ بعد میں ڈاکٹر سخت (رجڈ)، اسکلیرل یا دیگر خصوصی کانٹیکٹ لینز تجویز کر سکتا ہے، جو بے ترتیب قرنیہ کے اوپر ایک ہموار بصری سطح بناتے ہیں۔ لینز کی فٹنگ میں عموماً کئی وزٹ لگتے ہیں اور اکثر یہ کام وطن واپسی پر لینز کے ماہر کے پاس جاری رکھا جاتا ہے۔
بڑھی ہوئی صورتوں میں سرجری کے اختیارات
جب قرنیہ بہت پتلی ہو یا اس پر نشان پڑ چکے ہوں، یا لینز سے کارآمد نظر نہ ملے، تو سرجن دوسرے آپریشنز پر بات کر سکتا ہے، جن میں رنگ سیگمنٹس یا قرنیہ کی پیوند کاری شامل ہو سکتی ہے۔ ایسے فیصلے صرف تفصیلی معائنے کے بعد کیے جاتے ہیں۔
علاج کہاں ہوتا ہے
یہ کن کے لیے موزوں ہو سکتا ہے
- وہ بالغ اور نوعمر افراد جن میں ماہرِ چشم نے کیراٹوکونس کی تشخیص کی ہو، اور نوعمر مریض والدین یا قانونی سرپرست کے ساتھ سفر کریں
- وہ لوگ جن کی عینک کا نمبر یا ایسٹیگمیٹزم (نظر کی ٹیڑھ) بار بار بدلتا ہے اور جنہیں جاننا ہے کہ قرنیہ کی بیماری بڑھ رہی ہے یا نہیں
- وہ مریض جو کراس لنکنگ یا کسی دوسرے تجویز کردہ علاج پر دوسری طبی رائے لینا چاہتے ہیں
- وہ لوگ جنہیں اب عینک سے اچھی طرح نظر نہیں آتا اور جو خصوصی کانٹیکٹ لینز کے بارے میں مشورہ چاہتے ہیں
- بڑھے ہوئے کیراٹوکونس کے مریض جو سرجری کے اختیارات پر بات کرنا چاہتے ہیں
کب سفر مؤخر کرنا چاہیے
- آنکھ میں اچانک درد، نظر کا اچانک کم ہو جانا یا سرخ اور پانی بہتی آنکھ کے لیے اپنے ملک میں فوری علاج ضروری ہے، اور منصوبہ بند سفر کا انتظار نہیں کرنا چاہیے
- آنکھ کے فعال انفیکشن یا سوزش کا پہلے علاج کیا جاتا ہے، اور آنکھ ٹھیک ہونے کے بعد سفر کا منصوبہ بنایا جاتا ہے
- عام لیزر سے نظر کی درستگی عموماً کیراٹوکونس میں موزوں نہیں ہوتی، کیونکہ یہ پہلے سے پتلی قرنیہ سے ٹشو ہٹاتی ہے، اور کسی استثنا کا فیصلہ صرف ماہرِ چشم ہی کر سکتا ہے
- حمل اور دودھ پلانے کے دوران کراس لنکنگ جیسے منصوبہ بند طریقۂ کار عموماً ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق مؤخر کر دیے جاتے ہیں
حتمی فیصلہ ہمیشہ ڈاکٹر آپ کی دستاویزات دیکھنے کے بعد کرتا ہے۔
طبی جائزے کے لیے دستاویزات
جو کچھ آپ کے پاس موجود ہے وہ بھیج دیں۔ اگر کچھ کم ہوا تو ڈاکٹر بتا دے گا کہ مزید کیا درکار ہے۔
- ماہرِ چشم کی رپورٹس جن میں تشخیص، نظر کی تیزی اور ریفریکشن درج ہو
- قرنیہ کی ٹوپوگرافی یا ٹوموگرافی کے نتائج، بہتر ہے کہ مختلف تاریخوں کے کئی نتائج ہوں تاکہ بیماری کے بڑھنے کا اندازہ لگایا جا سکے
- آپ کی موجودہ عینک یا کانٹیکٹ لینز کا نسخہ اور آپ جو لینز پہنتے ہیں ان کی قسم
- آنکھوں کی الرجی، آنکھ کے پچھلے علاج یا سرجری اور خاندان میں کیراٹوکونس کے بارے میں معلومات
- باقاعدگی سے لی جانے والی دواؤں اور عمومی صحت کے مسائل کی فہرست
- ویزا اور بکنگ کے لیے پاسپورٹ کی کاپی
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا کیراٹوکونس مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتا ہے؟
کوئی بھی علاج قرنیہ کو اس کی عام شکل میں واپس نہیں لاتا، اس لیے مقصد نظر کو کارآمد رکھنا اور جہاں ممکن ہو بیماری کے بڑھنے کی رفتار کم کرنا ہے۔ بہت سے لوگوں میں عمر کے ساتھ بیماری زیادہ مستحکم ہو جاتی ہے، لیکن یہ ہر شخص میں مختلف ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ قرنیہ کی باقاعدہ پیمائش سے پتا چلتا ہے کہ اس میں تبدیلی آ رہی ہے یا نہیں، اور ماہرِ چشم اسی کے مطابق منصوبہ بدلتا ہے۔
کیا کیراٹوکونس میں لیزر سے نظر کی درستگی ممکن ہے؟
عام لیزر درستگی عموماً موزوں نہیں ہوتی، کیونکہ یہ قرنیہ کا ٹشو ہٹاتی ہے اور کیراٹوکونس کو بڑھا سکتی ہے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ کسی بھی لیزر علاج سے پہلے قرنیہ کا اتنی احتیاط سے معائنہ کیا جاتا ہے۔ آپ کے معاملے میں قرنیہ پر کوئی طریقۂ کار مناسب ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ ماہرِ چشم ٹوموگرافی کے بعد کرتا ہے۔
قرنیہ کی کراس لنکنگ کیا ہے اور یہ کس کے لیے ہے؟
کراس لنکنگ میں رائبوفلیوین کے قطرے اور الٹرا وائلٹ روشنی استعمال کر کے قرنیہ کو مضبوط کیا جاتا ہے اور مزید پتلا ہونے کی رفتار کم کی جاتی ہے۔ اس پر عموماً اس وقت غور کیا جاتا ہے جب بیماری کا بڑھنا ریکارڈ سے ثابت ہو اور قرنیہ کافی موٹی ہو۔ سب سے عام طریقے کے بعد چند دن تک آنکھ میں درد ہو سکتا ہے اور کچھ عرصے تک نظر میں اتار چڑھاؤ رہ سکتا ہے۔ یہ آپ کے لیے موزوں ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ ڈاکٹر کرتا ہے، اور یہ عینک یا لینز کا متبادل نہیں ہے۔
مجھے باکو میں کتنے دن قیام کا منصوبہ بنانا چاہیے؟
قرنیہ کی پیمائش کے ساتھ معائنے میں عموماً 1 سے 2 دن لگتے ہیں۔ اس سے پہلے کچھ دن کانٹیکٹ لینز پہننا بند کرنا ہوتا ہے، اور کلینک آپ کے لینز کی قسم کے مطابق مدت کی تصدیق کرتا ہے۔ اگر کراس لنکنگ جیسا کوئی طریقۂ کار طے ہو تو قیام لمبا ہوتا ہے، اکثر تقریباً ایک ہفتہ، تاکہ واپسی کی پرواز سے پہلے ڈاکٹر صحت یاب ہوتی آنکھ کا معائنہ کر سکے۔ اگر آپ پہلے ڈاکٹر سے بات کرنا چاہیں تو سفر سے پہلے آن لائن مشاورت بک کی جا سکتی ہے۔
باکو میں کیراٹوکونس کے علاج پر کتنا خرچ آتا ہے؟
خرچ اس بات پر منحصر ہے کہ کون سے ٹیسٹ درکار ہیں، کوئی طریقۂ کار طے ہے یا نہیں اور کون سا، لینز کی فٹنگ، فالو اپ وزٹس کی تعداد، رہائش اور ایئرپورٹ سے لانے اور لے جانے کا انتظام۔ ماہرِ چشم کے آپ کے کاغذات کا جائزہ لینے کے بعد ہم سفر سے پہلے تحریری تخمینہ بھیجتے ہیں، تاکہ آپ کو پہلے سے معلوم ہو کہ اس میں کیا شامل ہے۔
متعلقہ علاج کے شعبے
دیگر بیماریاں
اپنی رپورٹس بھیجیں اور علاج کا پلان حاصل کریں
ہمیں اپنی بیماری کے بارے میں بتائیں۔ کوآرڈینیٹر اردو میں جواب دے گا، اور ماہر ڈاکٹر آپ کی دستاویزات کا جائزہ لے گا۔